ھر آنگن میں سجے نہ تیرے اجلے روپ کی دھوپ

0
12

ھر آنگن میں سجے نہ تیرے اجلے روپ کی دھوپ

چھیل چھبیلی رانی تھوڑا گھونگھٹ اور نکال

بھر بھر نظریں دیکھیں تجھ کو آتے جاتے لوگ

دیکھ تجھے بدنام نہ کر دے یہ ھرنی جیسی چال

بیچ میں رنگ محل ھے تیرا کھائی چاروں اور

ھم سے ملنے کی اب گوری تو ھی راہ نکال

یہ دنیا ھے خود غرضوں کی لیکن یار قتیل

تو نے ھمارا ساتھ دیا تو جئے ہزاروں سال

قتیل شفائی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

three × two =